Advertise with Googlier.com
<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>مستبصرین عالمی نیٹورک</title>
	<atom:link href="https://al-mostabserin.com/urdu/feed" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://al-mostabserin.com/urdu</link>
	<description>ایک اور WordPress سائٹ</description>
	<lastBuildDate>Wed, 30 Sep 2026 12:16:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1</generator>
	<item>
		<title>محمد سلیم عرفہ، ایک شامی مستبصر کی زندگی اور ہدایت کی داستان</title>
		<link>https://al-mostabserin.com/urdu/12908</link>
					<comments>https://al-mostabserin.com/urdu/12908#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[urdu]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 30 Sep 2026 12:16:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[استبصار کی داستانیں]]></category>
		<category><![CDATA[داستان]]></category>
		<category><![CDATA[شامی مستبصر]]></category>
		<category><![CDATA[شیعه شدگان]]></category>
		<category><![CDATA[محمد سلیم عرفہ]]></category>
		<category><![CDATA[مستبصرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://al-mostabserin.com/urdu/?p=12908</guid>

					<description><![CDATA[&#160; ’’محمد سلیم عرفہ‘‘1965ء میں دمشق، شام کے ایک مذہبی حنفی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے الیکٹرانکس کے شعبہ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد الیکٹرانکس انجینئرنگ اسسٹنٹ کی ڈگری حاصل کی۔ دینی کتب کے مطالعے میں گہری دلچسپی کے باعث ان کے لیے سعادت کا راستہ ہموار ہوا اور آخرکار یہی شوق ان [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p><img fetchpriority="high" decoding="async" class="size-medium wp-image-12909 aligncenter" src="http://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-4-300x200.jpg" alt="" width="300" height="200" srcset="https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-4-300x200.jpg 300w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-4-1024x683.jpg 1024w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-4-768x512.jpg 768w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-4.jpg 1536w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>’’<strong>محمد سلیم عرفہ‘</strong>‘1965ء میں دمشق، شام کے ایک مذہبی حنفی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے الیکٹرانکس کے شعبہ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد الیکٹرانکس انجینئرنگ اسسٹنٹ کی ڈگری حاصل کی۔<span id="more-12908"></span> دینی کتب کے مطالعے میں گہری دلچسپی کے باعث ان کے لیے سعادت کا راستہ ہموار ہوا اور آخرکار یہی شوق ان کے تشیع اختیار کرنے کا سبب بنا۔ اس بارے میں وہ لکھتے ہیں:</p>
<p>’’بچپن سے ہی میں مسجد اور دینی حلقوں میں شریک رہا یہاں تک کہ میں نے بعض اساتذہ سے فقہ کی تعلیم حاصل کر لی۔ اسی طرح میں آسمانی مذاہب کی تحقیق، ان کے پیروکاروں سے گفتگو اور شیعہ و سنّی کے مابین مذہبی اختلافات کے مطالعے میں بھی بہت دلچسپی رکھتا تھا۔‘‘</p>
<p>میں فارغ وقت میں اپنے ماموں کے جائداد کے دفتر میں کام کرتا تھا۔ اسی وجہ سے میری ملاقات بہت سے شیعوں سے ہوئی جو حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی زیارت کے لیے شام آتے اور کرایہ پر مکان لینے کے لیے میرے ماموں کے دفتر آتے تھے۔ انہی شیعوں میں سے ایک نے مجھ سے کہا کہ اس نے حوزہ میں تعلیم حاصل کی ہے۔ لیکن میں نے یہ اصطلاح پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا: ’’آپ کا مطلب ’حوزوی‘ سے کیا ہے؟‘‘</p>
<p>اس نے جواب دیا: ’’کیا تم شیعوں کے بارے میں کچھ جانتے ہو؟‘‘ میں نے کہا: ’’میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ یہ اسلام کے ایک فرقے ہیں اور وہ حضرت علی علیہ السلام اور ان کے اہل بیت سے بہت محبت کرتے ہیں اور انہیں تمام صحابہ سے برتر مانتے ہیں۔‘‘ البتہ میں نے ان الزامات کا ذکر نہیں کیا جو ہمارے علما شیعوں سے منسوب کرتے ہیں تاکہ اسے رنجیدہ نہ کروں۔</p>
<p>پھر اس نے شیعہ اور سنی کے درمیان بعض اختلافی مسائل پیش کیے، لیکن میں نے اس کی باتیں قبول نہ کیں اور تعجب کے ساتھ انکار کرتا رہا۔ اس نے کہا: ’’چونکہ تم میری باتیں قبول نہیں کرتے، میں تمہیں ایک ایسی کتاب بتاتا ہوں جو صرف سنی ماخذ پر مبنی ہے۔ کیا تم اسے پڑھنے کے خواہشمند ہو؟‘‘ دینی کتب کے مطالعے کی شدید رغبت کے باعث میں نے فوراً اس کی پیشکش قبول کر لی۔</p>
<p>اس شیعہ طالب علم نے مجھے کتاب المراجعات سے متعارف کرایا۔ اس کے بعد میں نے اسے تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن دمشق میں یہ کتاب نہیں ملی۔ کچھ عرصہ بعد جمعہ کی نماز کے موقع پر میری ملاقات ایک دوست سے ہوئی جس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی۔ میں نے اس سے پوچھا یہ کتاب کس موضوع پر ہے؟ اس نے کہا: ’’یہ شیعوں کی گمراہ کرنے والی کتابوں میں سے ہے اور میرے اساتذہ نے مجھے اسے پڑھنے سے منع کیا ہے۔ میں اسے واپس کرنا چاہتا ہوں جس سے میں نے عاریتاً لی تھی۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’کتاب کا نام کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’المراجعات۔‘‘</p>
<p>یہ سنتے ہی میں خوشی سے نہال ہو گیا اور اپنی خوشی پر قابو نہ پا سکا۔ میں نے اس سے کہا کہ کتاب مجھے ایک دن کے لیے امانت دے دو، لیکن وہ انکار کرتا رہا اور مجھے پڑھنے سے روکنے کی کوشش کرتا رہا۔ جب اس نے میرا شدید اصرار دیکھا تو ناچار کتاب دے دی۔ میں نے اسی دن رات گئے تک کتاب پڑھ لی۔ پھر اس کے مندرجات اور مصنف کی پیش کردہ روایات کی تصدیق کے لیے دوبارہ مطالعہ کیا، اور حیرت کے ساتھ دیکھا کہ یہ سب روایات ہماری اپنی تاریخی و حدیثی کتابوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔</p>
<p>ان میں خاص طور پر حدیث غدیر اور حدیث ثقلین شامل تھیں، جن کی بنیاد پر مصنف نے اہل بیت علیہم السلام کے مذہب کی حقانیت ثابت کی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر صرف یہی دو احادیث ہماری کتب حدیث میں موجود ہوں تو ولایت امیر المؤمنین علیہ السلام کے اثبات کے لیے کافی ہیں۔</p>
<p>علامہ شرف الدین (مصنف کتاب) کے منطقی اور مضبوط دلائل نے میرے لیے تشیع کا راستہ روشن کر دیا اور اہل بیت علیہم السلام کے مکتب کی ہدایت کو آسان بنا دیا۔ چنانچہ میں نے مذہب شیعہ اثنا عشری اختیار کیا۔</p>
<div id="themify_builder_content-12908" data-postid="12908" class="themify_builder_content themify_builder_content-12908 themify_builder">

    </div>
<!-- /themify_builder_content -->]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://al-mostabserin.com/urdu/12908/feed</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام قبول کیا — نوح ڈیوس</title>
		<link>https://al-mostabserin.com/urdu/12905</link>
					<comments>https://al-mostabserin.com/urdu/12905#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[urdu]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 27 Sep 2026 11:56:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مستبصرین میگزین]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام قبول کیا]]></category>
		<category><![CDATA[شیعه شدگان]]></category>
		<category><![CDATA[مستبصرین]]></category>
		<category><![CDATA[نوح ڈیوس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://al-mostabserin.com/urdu/?p=12905</guid>

					<description><![CDATA[&#160; &#160; جون 2015 میں، میں نے اپنے فون پر قرآن کی ایپ ڈاؤن لوڈ کی اور اسے پڑھنا شروع کیا۔ مجھے اس سے ایک نئی قوت کا احساس ہوا اور مجھے یہ بہت پسند آیا۔ مقدس ماہِ رمضان سے ایک ہفتہ قبل، میں نے روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے کا طریقہ سیکھنے کا فیصلہ [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p>&nbsp;</p>
<p><img decoding="async" class="size-medium wp-image-12906 aligncenter" src="http://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/012-2-300x212.jpg" alt="" width="300" height="212" srcset="https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/012-2-300x212.jpg 300w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/012-2-1024x723.jpg 1024w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/012-2-768x543.jpg 768w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/012-2.jpg 1492w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>جون 2015 میں، میں نے اپنے فون پر قرآن کی ایپ ڈاؤن لوڈ کی اور اسے پڑھنا شروع کیا۔ مجھے اس سے ایک نئی قوت کا احساس ہوا اور مجھے یہ بہت پسند آیا۔<span id="more-12905"></span></p>
<p>مقدس ماہِ رمضان سے ایک ہفتہ قبل، میں نے روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے کا طریقہ سیکھنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>میں فلوریڈا کے ایک کالج گیا، جہاں میری ملاقات ایک شیعہ بھائی سے ہوئی۔ انہوں نے شیعہ اسلام کو سمجھنے اور کلمۂ شہادت پڑھنے میں میری مدد کی۔</p>
<p>یہ واقعہ ستمبر 2015 میں پیش آیا۔</p>
<div id="themify_builder_content-12905" data-postid="12905" class="themify_builder_content themify_builder_content-12905 themify_builder">

    </div>
<!-- /themify_builder_content -->]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://al-mostabserin.com/urdu/12905/feed</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مهدی منتظر اور اسلامی فکر</title>
		<link>https://al-mostabserin.com/urdu/12901</link>
					<comments>https://al-mostabserin.com/urdu/12901#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[urdu]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 26 Sep 2026 07:13:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[عقائد لائبریری]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامی فکر]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامیک کتاب]]></category>
		<category><![CDATA[امام زمان عج]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت مهدی علیه السلام]]></category>
		<category><![CDATA[سید محمد نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[کتابخانه اردو]]></category>
		<category><![CDATA[کتابخانه شیعه]]></category>
		<category><![CDATA[مهدی منتظر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://al-mostabserin.com/urdu/?p=12901</guid>

					<description><![CDATA[&#160; کتاب کا نام:          مهدی منتظر اور اسلامی فکر مصنف کا نام:      سید محمد نقوی لینک 1 (Google Drive) : مهدی منتظر اور اسلامی فکر لینک 2 (Archive.org) : مهدی منتظر اور اسلامی فکر   ]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<ul>
<li><strong>کتاب کا نام:          مهدی منتظر اور اسلامی فکر</strong></li>
<li><strong>مصنف کا نام:      سید محمد نقوی</strong><strong><br />
</strong></li>
<li></li>
</ul>
<p data-wp-editing="1"><img decoding="async" class="wp-image-12902 size-medium aligncenter" src="http://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/012-1-200x300.jpg" alt="" width="200" height="300" srcset="https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/012-1-200x300.jpg 200w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/012-1-683x1024.jpg 683w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/012-1-768x1152.jpg 768w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/012-1.jpg 1024w" sizes="(max-width: 200px) 100vw, 200px" /></p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-11044" src="http://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2020/08/download-here-e1699869243955.png" alt="" width="146" height="38" /></p>
<p style="text-align: center;"><a href="https://drive.google.com/file/d/1K0MJ0haVmIP9rf3Mpw259rhrAdmRhu-8/view?usp=drive_link"><strong><span style="color: #000000;">لینک 1 (Google Drive) :</span></strong></a><a href="https://drive.google.com/file/d/1LgKCl1xbNJV4VJeKPoF69OWojDb4cOUs/view?usp=drive_link"><br />
</a></p>
<p style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;"><strong><a style="color: #0000ff;" href="https://drive.google.com/file/d/1EDoRWvE6h88lu769zMdkqBGvkzkCUTxA/view?usp=drive_link">مهدی منتظر اور اسلامی فکر</a></strong></span></p>
<p style="text-align: center;"><a href="https://archive.org/details/shaheed-e-aazam"><span style="color: #000000;"><strong>لینک 2 (Archive.org) :</strong></span> </a></p>
<p style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;"><strong><a style="color: #0000ff;" href="https://archive.org/details/mahdi-e-muntazir">مهدی منتظر اور اسلامی فکر </a></strong></span></p>
<p style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;"> </span></p>
<div id="themify_builder_content-12901" data-postid="12901" class="themify_builder_content themify_builder_content-12901 themify_builder">

    </div>
<!-- /themify_builder_content -->]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://al-mostabserin.com/urdu/12901/feed</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام قبول کرنے والی &#034;مریم مارٹینیز&#8221;</title>
		<link>https://al-mostabserin.com/urdu/12898</link>
					<comments>https://al-mostabserin.com/urdu/12898#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[urdu]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 24 Sep 2026 12:13:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مستبصرین میگزین]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام قبول]]></category>
		<category><![CDATA[شیعه شدگان]]></category>
		<category><![CDATA[مریم مارٹینیز]]></category>
		<category><![CDATA[مستبصرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://al-mostabserin.com/urdu/?p=12898</guid>

					<description><![CDATA[&#160; مقدس قرآن کی تلاوت کا مجھ پر فوری اثر ہوا، اور میں سمجھ گیا کہ اس میں بیان کیا گیا علم حیرت انگیز ہے، اور اسی لیے یہ حقیقت ہے کہ خدا کا وجود اور اس کا منصوبہ برحق ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="size-medium wp-image-12899 aligncenter" src="http://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-3-300x212.jpg" alt="" width="300" height="212" srcset="https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-3-300x212.jpg 300w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-3-1024x723.jpg 1024w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-3-768x543.jpg 768w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-3.jpg 1492w" sizes="auto, (max-width: 300px) 100vw, 300px" /><br />
<span style="color: #008000;"><strong>مقدس قرآن</strong></span> کی تلاوت کا مجھ پر فوری اثر ہوا، اور میں سمجھ گیا کہ اس میں بیان کیا گیا علم حیرت انگیز ہے،</p>
<p>اور اسی لیے یہ حقیقت ہے کہ <strong>خدا کا وجود اور اس کا منصوبہ برحق ہیں</strong>۔</p>
<div id="themify_builder_content-12898" data-postid="12898" class="themify_builder_content themify_builder_content-12898 themify_builder">

    </div>
<!-- /themify_builder_content -->]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://al-mostabserin.com/urdu/12898/feed</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ولادت باسعادت فرزند رسولۖ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام مبارک</title>
		<link>https://al-mostabserin.com/urdu/12896</link>
					<comments>https://al-mostabserin.com/urdu/12896#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[urdu]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 20 Sep 2026 12:36:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مستبصرین میگزین]]></category>
		<category><![CDATA[8 ربیع الثانی]]></category>
		<category><![CDATA[امام حسن عسکری علیہ السلام]]></category>
		<category><![CDATA[امام عسکری علیه السلام]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام]]></category>
		<category><![CDATA[فرزند رسولۖ]]></category>
		<category><![CDATA[ولادت باسعادت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://al-mostabserin.com/urdu/?p=12896</guid>

					<description><![CDATA[&#160; شیعوں کے گیارہویں امام حضرت امام حسن عسکری (ع) 8 ربیع الثانی سن 232 ہجری قمری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے آپ کا اسم گرامی حسن اور کنیت ابو محمد ہے۔ امام عسکری کا مختصر تعارف نام: حسن بن علی بن محمد ولادت: ۸ ربیع‌ الثانی، ۲۳۲ھ جائے ولادت: مدینہ والد گرامی: امام [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter wp-image-7531 size-medium" src="http://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2022/11/01-17-300x214.jpg" alt="" width="300" height="214" srcset="https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2022/11/01-17-300x214.jpg 300w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2022/11/01-17-768x548.jpg 768w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2022/11/01-17.jpg 886w" sizes="auto, (max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>شیعوں کے گیارہویں امام حضرت امام حسن عسکری (ع) 8 ربیع الثانی سن 232 ہجری قمری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے آپ کا اسم گرامی حسن اور کنیت ابو محمد ہے۔</p>
<p><span style="color: #339966;"><strong>امام عسکری کا مختصر تعارف</strong></span></p>
<p><strong>نام:</strong> حسن بن علی بن محمد</p>
<p><strong>ولادت:</strong> ۸ ربیع‌ الثانی، ۲۳۲ھ</p>
<p><strong>جائے ولادت:</strong> مدینہ</p>
<p><strong>والد گرامی:</strong> امام ہادی نقی ؑ</p>
<p><strong>والدہ ماجدہ:</strong> آپ کی والدہ کے متعدد نام ہیں: حُدیث، سوسن</p>
<p><strong>القاب:</strong> ابن‌ الرضا، صامت، ہادی، رفیق، زکی، نقی<span id="more-12896"></span></p>
<p><strong>کنیت:</strong> ابو محمد</p>
<p><strong>زوجہ:</strong> نرجس</p>
<p><strong>اولاد:</strong> امام مہدی ؑ</p>
<p><strong>امامت:</strong> گیارہویں امام</p>
<p><strong>مدت امامت:</strong> ۶ سال (۲۵۴ ھ سے ۲۶۰ ھ تک)</p>
<p><strong>شہادت:</strong> ۸ ربیع‌ الاول، ۲۶۰ھ</p>
<p><strong>مدفن:</strong> سامراء، عراق حرم عسکریین</p>
<p><strong>جائے سکونت:</strong> سامراء</p>
<p><strong>عمر مبارک:</strong> ۲۸ سال</p>
<p><strong><span style="color: #339966;">ولادت با سعادت</span><img loading="lazy" decoding="async" class="wp-image-7532 size-full alignleft" src="http://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2022/11/02-2.jpg" alt="" width="207" height="244" /></strong></p>
<p>امام حسن عسکریؑ امام نقی ؑ کے سب سے بڑے فرزند ہیں اور امام زمان ؑ کے والد گرامی ہیں۔ آپؑ اللہ تعالی کی طرف سے تمام خلقت پر گیارہویں حجت، خلیفہ اور امام ہیں۔ آپؑ کی ولادت با سعادت ۲۳۱ یا ۲۳۲ ھ، ماہ ربیع الاول یا ربیع الثانی کو مدینہ میں ہوئی۔ آپ کی والدہ ماجدہ انتہائی پاکیزہ و نیک خاتون تھیں جن کا نام حُدَیۡث نقل کیا گیا ہے۔ بعض نے آپ کی والدہ کا نام سَوۡسَن بھی ذکر کیا ہے۔</p>
<p><span style="color: #339966;"><strong>القاب، کنیت اور مدت امامت</strong></span></p>
<p>آپؑ کا مشہور لقب عسکری ہے۔ آپؑ کو عسکری کہنے کی وجہ وہ محلہ ہے جس میں آپؑ رہا کرتے تھے۔ عباسی خلیفہ نے جب آپؑ کو جبری طور پر سامراء میں منتقل کیا تو آپؑ نے عسکر نامی محلہ میں سکونت اختیار۔ یہ محلہ شہر سامراء کا سب سے خستہ حال اور عقب ماندہ محلہ شمار ہوتا تھا۔ اس محلہ کے نام کی وجہ سے آپؑ کو عسکری کہا جانے لگا۔</p>
<p>امام عسکریؑ کے دیگر معروف القاب میں نقی، زکی، فاضل اور امین ہے۔ آپؑ کی کنیت ابو محمد ہے۔ آپؑ کی عمر مبارک ابھی ۲۲ سال تھی کہ آپؑ کے والد گرامی امام نقی ؑ کو شہید کر دیا گیا۔ آپؑ کی مدت امامت چھ (۶) سال ہے اور وقتِ شہادت آپ کا سنّ مبارک ۲۸ سال تھا۔ آپؑ کے بعد آپؑ کے فرزند امام مہدی ؑ پانچ سال کی عمر میں منصب امامت پر فائز ہوئے۔ امام عسکریؑ کو ان کے گھر میں اپنے والد امام نقی ؑ کے پہلو میں دفنایا گیا۔</p>
<p><span style="color: #339966;"><strong>امام عسکری کا حلیہ مبارک اور ظاہری خصوصیات</strong></span></p>
<p>امام عسکریؑ کے حلیہ مبارک کے بارے میں وارد ہوا ہے کہ آپؑ کا رنگ گندمی، سیاہ آنکھین، میاند قد و قامت اور مناسب جسم کے مالک تھے۔ آپ کے زمانے کے قریش کے بزرگان اور اہل علم و دانش اپنے آپ کو آپؑ کے ماتحت اور تاثیر گزار قرار دیتے تھے۔ تمام دوست و دشمن میں آپؑ کی بردباری، بخشش، تقوی و زہد، ذکر و عبادت اور دیگر مکارمِ اخلاق کی شہرت تھی۔</p>
<p><span style="color: #339966;"><strong>امام عسکری کی زندگی</strong></span></p>
<p>امام عسکریؑ کی مختصر سی زندگی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:</p>
<ul>
<li>ولادت با سعادت سے چار سال و چند ماہ۔ ایک قول کے مطابق ۱۳ سال تک۔ اس عرصہ میں امامؑ مدینہ میں رہے۔</li>
<li>چار سال یا ۱۳ سال سے لے کر ۲۳ سال تک۔ اس عرصہ میں آپؑ کو اپنے والد بزرگوار امام نقی ؑ کے ہمراہ سامراء میں جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔</li>
<li>۲۳ سال سے لے کر ۲۸ سال تک۔ یہ عرصہ زمانہِ امامت سے تعبیر ہے۔ امام نقی ؑ کی شہادت کے بعد آپ امت اسلامیہ کے امام، خلیفہ اور رہبر قرار پائے۔</li>
</ul>
<p>شیعہ اور سنی کتب احادیث میں معتبر اسانید کے ساتھ احادیث وارد ہوئی ہیں جن کے مطابق رسول اللہ ؐ کے بارہ (۱۲) جانشین ہوں گے جو خلیفہ اور امت کی قیادت سنبھالنے والے امام ہوں گے۔ ان احادیث کے مطابق امام حسن عسکریؑ گیارہویں امام کہلاتے ہیں۔ نیز تواتر کے ساتھ آئمہ اہل بیت ؑ کے طریق سے روایات وارد ہوئی ہیں جن میں تصریح موجود ہے کہ امام عسکریؑ گیارہویں امام اور حجتِ الہی ہیں۔</p>
<p>جناب جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت منقول ہے کہ انہوں نے جناب فاطمہ ؑ کے دستِ مبارک میں ایک لوح دیکھی جس میں آئمہ ؑ کے نام صراحت کے ساتھ لکھے ہوئے تھے، ان ناموں میں ایک نام امام حسن عسکریؑ کا تھا۔</p>
<p>مکتب تشیع میں معروف ہے کہ امام حسن عسکریؑ کے فقط ایک فرزند تھے جوکہ امام مہدی ؑ ہیں۔ ان کے علاوہ امام عسکریؑ کی کوئی اور اولاد نہیں تھی۔</p>
<p>دین کی حفاظت و ترویج، اسلام کی سربلندی، حاکمیتِ الہی کے قیام کے لیے امام عسکریؑ کوشاں رہتے جس کی وجہ سے عباسی حکومت کی طرف سے شدید دباؤ برداشت کرنا پڑا۔ عباسی حکومت مسلسل آپؑ کی سیاسی، اجتماعی، علمی اور عملی فعالیت کی نگرانی کرتی اور مختلف بہانوں سے آپؑ کو تکلیف و اذیت پہنچاتے۔ کبھی جیلوں میں قید خانہ کی صعوبتوں کے حوالے کر دیتے اور کبھی نظر بندی کی مشکلات اٹھانا پڑتیں۔ امام عسکریؑ نے اپنے دور کے طاغوت اور باطل افکار و نظریات کے خلاف مبارزہ و جہاد مسلسل جاری رکھا اور مختلف تدابیر اختیار کر کے دین الہی کی نشر کیا اور حاکمیتِ الہی کی کوشش کی۔ امام عسکریؑ کی سیاسی و اجتماعی فعالیت عموما مہدویت کے موضوع کے ذیل میں سامنے آتی ہیں۔ ذیل میں چند نکات امام عسکریؑ کی سیاسی و اجتماعی و علمی کاوشوں کے ذکر کیے جا رہے ہیں:</p>
<p><span style="color: #339966;"><strong>علمی کاوشیں</strong></span></p>
<p>امام عسکریؑ کی علمی کاوشیں باطل افکار کے مقابلے میں حق کو سربلند کرنے اور شکوک و شبہات کے جوابات دے کر اسلام کا دفاع کرنے کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔ عباسی حکومت نے امام عسکریؑ کو انتہائی نگرانی اور تنگ حالات میں رکھا تھا جس کی وجہ سے امامؑ کے پاس آزادنہ طور پر روابط قائم کر کے معاشرے کی تربیت و رہنمائی اور دین کی ترویج کی فرصت مہیا نہیں ہوئی۔ البتہ ان سخت حالات میں امامؑ نے کئی شاگرد تربیت کیے جن کو اسلام کے دقیق معارف کی وسیع پیمانے پر تعلیم دی تاکہ دشمنانِ اسلام کے شبہات کے جوابات دیئے جا سکیں۔ شیخ طوسی نے اپنی رجال میں تقریبا ایک سو اصحاب کا ذکر کیا ہے جنہوں نے امام عسکریؑ کسبِ فیض کیا اور معارف اسلامی کو عالم اسلام میں پھیلایا۔</p>
<p>ان اصحاب میں برجستہ ترین اور بلند قامت شخصیات میں سرفہرست احمد بن اسحاق اشعری قمی، ابو ہاشم داود بن قاسم جعفری، ابو عمرو عثمان بن سعید عمری، علی بن جعفر اور محمد بن حسن صفار ہیں۔</p>
<p><span style="color: #339966;"><strong>سلسلہ وکلاء</strong></span></p>
<p>عباسی حکومت نے امامؑ کو سامراء میں نظر بند کر کے اور ان کے اردگرد جاسوسوں کا جال بچھا کر سر توڑ کوشش کی کہ امام عسکریؑ کا رابطہ اور تعلق امت اسلامیہ خصوصا ان کے شیعوں سے کٹ کر رہ جائے۔ ایسی صورت میں امامؑ نے انتہائی کامیاب تدبیر کو اختیار کیا اور عالم اسلام کے مختلف علاقوں میں وکلاء کا ایک جال پھیلا دیا جن کے توسط سے امامؑ اپنے شیعوں سے رابطے میں رہتے اور ان کی دینی، سیاسی اور اجتماعی مسائل میں ہدایت و رہبریت کے وظائف انجام دیتے۔ امام عسکریؑ کے زمانے میں تشیع بڑی حد تک پھیل چکی تھی اور شیعانِ امامؑ مختلف شہروں اور علاقوں میں زندگی بسر کرتے تھے۔ ان سے ارتباط اور تعلق کے لیے امامؑ نے وکلاء کو قرار دیا جو امامؑ کا موقف، ان کی تعلیم اور پیغام کو لوگوں تک پہنچاتے۔</p>
<p>یہ ضرورت حقیقت میں امام تقی ؑ کے دور میں زیادہ محسوس کی گئی۔ چنانچہ امام تقی ؑ اور ان کے بعد امام ہادی ؑ نے وکلاء کے ذریعے ارتباط کی روش کو مزید محکم کیا اور مختلف علاقوں اور دور دراز شہروں میں وکیلوں کو متعین فرمایا۔ اسی تدبیر کو امام عسکریؑ نے اختیار کیا اور وسیع انداز میں ان تمام دور دراز علاقوں اور شہروں میں وکلاء کو متعین فرمایا جہاں شیعہ زندگی بسر کیا کرتے تھے۔ امام عسکریؑ کے نمائندہ میں ایک برجستہ اور بڑا نام احمد بن اسحاق کا ہے جو قم مقدسہ میں متعین تھے۔ احمد بن اسحاق کا شمار امام عسکریؑ خاص اصحاب میں ہوتا ہے۔</p>
<p>آپ قم میں شیعوں کے درمیان مرکزی شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے تھے اور امام عسکریؑ و اہل قم کے درمیان رابطہ کا ذریعہ تھے۔</p>
<p>دیگر محققین نے احمد بن اسحاق کو امام عسکریؑ کا نمائندہ اور وکیل قرار دیا ہے۔</p>
<p>امام عسکریؑ کے وکیلوں میں سرفہرست ایک نام عثمان بن سعید عمری اور ان کے فرزند محمد بن عثمان عمری کا ہے۔ متعدد وکیل ان کے توسط سے امامؑ سے مربوط رہتے اور ان سے مختلف اموال، خمس اور سوالات لے کر امامؑ کے حوالے کرتے۔ ان وکلاء کے ذریعے امام عسکریؑ نے شیعوں سے قوی رابطہ ایجاد کیا اور اس طرح سے شیعوں کی سیاسی و اجتماعی و دینی رہبریت کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل کو حل فرماتے۔ نیز بعض اہمیت کے حامل موضوعات پر باقاعدہ خط و کتابت کے ذریعے سے آپؑ رہنمائی فرماتے۔ انہی خطوط میں سے ایک خط ابن بابویہ کو تحریر فرمایا۔ ابن شعبہ حرانی نے بعض خطوط کو ذکر کیا ہے جو امامؑ نے اسحاق بن اسماعیل نیشاپوری اور بعض شیعوں کو تحریر فرمائے۔</p>
<p>ایک روایت کے مطابق امام عسکریؑ نے ۸ ربیع الاول ۲۶۰ ھ اپنی شہادت سے قبل متعدد خطوط اہل مدائن کے لیے تحریر فرمائے۔</p>
<p><span style="color: #339966;"><strong>امام عسکری کے سیاسی تحرکات</strong></span></p>
<p>امام عسکریؑ کو اگرچے عباسی ظالم حکومت نے شدید قید و بند اور زیرِ نگرانی رکھا ہوا تھا لیکن اس کے باوجود امام عسکریؑ نے سیاسی امور میں رہبریت کے وظائف کو باخوبی انجام دیا اور حکومتی جاسوسوں سے بچتے ہوئے شیعوں کی سیاسی رہنمائی فرمائی۔ امامؑ تک ان کے اصحاب مختلف ذرائع سے رسائی حاصل کر پاتے اور شیعوں کے مسائل اور ان کے اموال امامؑ کی خدمت میں پیش کرتے جنہیں امامؑ انہی اصحاب اور وکیلوں کے ذریعے مختلف امور میں خرچ فرماتے تھے۔ بعض اصحاب تاجروں کے روپ میں سامراء داخل ہوتے اور امامؑ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور بعض غلام بن کر امامؑ کے گھر سے وابستہ ہو جاتے۔ انہی اصحاب میں ایک عظیم و جلیل القدر شخصیت عثمان بن سعید عمری کی ہے جو امامؑ کے قریبی ترین ساتھیوں میں شمار ہوتے اور تیل کی تجارت کیا کرتے تھے۔ تیل بچنے کے کاروبار کی آڑ میں عثمان بن سعید امام عسکریؑ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور شیعوں کے اموال اور مختلف مسائل ان تک پہنچاتے۔</p>
<p>اسی طرح امام عسکریؑ اپنے شیعوں کو مختلف سیاسی خطرات سے آگاہ فرماتے اور خطوط لکھ کر یا کسی اور طریقے سے ان حوادث میں رہنمائی فرماتے، جیساکہ الکافی میں روایت مذکور ہے کہ امامؑ نے اسحاق بن جعفر کو خط لکھا اور عباسی بادشاہ معتز کی ہلاکت سے قبل برپا ہونے والے حوادث کا تذکرہ کر کے رہنمائی فرمائی کہ وہ گھر سے باہر نہ نکلے۔</p>
<p>اسی طرح عالم اسلام میں برپا ہونے والے مختلف سیاسی فتنوں میں اپنے موقف کو آشکار فرماتے، جیساکہ محمد بن صالح خثعمی نے امامؑ سے صاحب الزنج جس نے زنجی انقلاب بصرہ اور دیگر شہروں میں برپا کیا تھا کے بارے میں دریافت کیا تو امامؑ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ اس کا ہم اہل بیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یعنی اس کے انقلابی تحرک کا حصہ مت بنو اس کا اہل بیتؑ سے تعلق نہیں ہے۔</p>
<p><span style="color: #339966;"><strong>سیاسی آگاہی</strong></span></p>
<p>امام عسکریؑ سیاسی تحرکات میں شیعوں میں خاص اصحاب کا انگیزہ اور روحیہ بلند فرماتے اور شدید دباؤ اور سختیوں کے مقابلے میں صبر کا درس دیتے۔ امام عسکریؑ کے وہ اصحاب جن کے پیش نظر امامت کو سربلند کرنا اور تشیع کی حمایت تھی کو طرح طرح کی قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا جس کی وجہ سے ان کے نفس میں اضطراب پیدا ہوتا جسے امام عسکریؑ اپنے فرمودات اور خصوصی ربط و تعلق کا اظہار کر کے اطمینان و صبر و تحمل کا باعث بنتے، جیساکہ مختلف اصحابِ امام عسکریؑ کے حالات زندگی میں اس طرح کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اجتماعی، سیاسی اور دینی وظائف کی انجام دہی میں جہاں بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے وہاں انتہائی صبر و استقامت اور استمرار سے مبارزہ کرنا ضروری قرار پاتا ہے جو مرکز امامت، ذات وجودِ بابرکت امام معصومؑ ممکن نہیں ہے۔ تشیع کا امامت سے گہرا تعلق اور ربط ان تمام تکالیف و سختیوں کو جھیل کر دین کی بقاء اور نشر و اشاعت کا باعث بنا۔</p>
<p><span style="color: #339966;"><strong>شیعوں کی مالی مشکلات دور کرنا</strong></span></p>
<p>امام عسکریؑ کے مختلف واقعات جو ہم تک پہنچے ہیں ان میں ایک نمایاں ترین امر رونما ہوا وہ مستضعفین و پریشان حال افراد کی معنوی اور مالی مدد کرنا ہے۔ امام عسکریؑ کی خدمت میں نادار و غریب افراد امید اور آس لگائے آتے اور امامؑ کے درّ سے اپنی ضرورت کو پورا کرتے۔</p>
<p>حتی بعض اصحاب مثل ابو ہاشم جعفری بارگاہِ امامت میں اپنے مالی زبوں حالی کا تذکرہ کرنے سے حیاء کرتے تھے تو امامؑ نے انہیں ۱۰۰ دینار بھیجے اور فرمایا اگر تمہیں کوئی مشکل پیش آتے تو ہمیں سے تقاضا کرتے ہوئے شرم و حیاء کا احساس نہ کرو اور بے جھجھک کہہ دیا کرو۔ شیعوں کی زبوں حالی کی وجہ عباسی ظالم جابر حکومت تھی جنہوں نے شیعوں پر اقتصادی دباؤ برپا کر رکھا تھا اور انہیں معاشرے میں ابھرنے کا موقع فراہم نہیں ہونے دیتے تھے۔ ایسے میں امام عسکریؑ کی طرف سے شیعوں پر مالی عنایات اور معنوی تربیت خصوصی پشت پناہی کا باعث بنتی۔</p>
<p><span style="color: #339966;"><strong>اللہ کے عنایت کردہ غیبی علم سے استفادہ</strong></span></p>
<p>آئمہ معصومین اللہ تعالی کے ساتھ خصوصی ربط اور تعلق رکھتے ہیں اور اللہ تعالی نے ان پر غیبی عنایات فرمائی ہیں۔ اسلام کی حقانیت اور امت اسلامی کے بلند مرتبہ مصالح و منافع کے لیے اسی غیبی عنایات سے آئمہؑ استفادہ کرتے ہیں اور ہر قسم کے اشتباہ، خطاء، قباحت اور لغزش سے پاک و مبرا رہتے ہیں۔ آئمہ کی پیشیگوئیاں اور مختلف حوادث کی خبر دینا اور ہدایت سے امت کا ہمکنار کرنا تخمینہ و ظن کی بیناد پر نہیں بلکہ الہی تعلیم کی بناء پر ہے۔ امام عسکریؑ کی زندگی میں متعدد ایسے واقعات دکھائی دیتے ہیں جن میں آپؑ نے اسی غیبی مبنع اور سرچشمہِ الہی سے استفادہ کرتے ہوئے رہنمائی فرمائی ہے۔</p>
<p>امام ہادی نقی ؑ کی شہادت کے بعد حکومتِ وقت کا ظلم و جور مزید بڑھ گیا اور انہوں نے امامؑ اور شیعوں کی مزید نگرانی شروع کر دی۔ اس وجہ سے امام عسکریؑ کے لیے شیعوں سے تعلق و رابطہ میں کئی قسم کی دشواریاں ایجاد ہو گئیں اور امامؑ کی زندگی خطرے میں گھرتی چلی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ امام نقی نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں وسیع پیمانے پر امام حسن عسکریؑ کا تعارف کروایا اور ان کی امامت کو شیعوں کے سامنے تاکیدی طور پر پیان کیا تاکہ شیعوں میں امام عسکریؑ کی امامت کے حوالے سے اختلاف پیدا نہ ہو اور مختلف گروہوں میں وہ تقسیم نہ ہوں۔ لیکن اس کے باوجود بعض گروہ امام عسکریؑ کی امامت کے منکر ہو گئے۔</p>
<p>گمراہ گروہوں کے آشکار ہونے، شک و تردید میں مبتلا افراد کی رہنمائی اور اپنے اصحاب و شیعوں کی حفاظت کے لیے امام عسکریؑ کو برملا طور پر سامنے آنا پڑا اور خطرات سے گلے لگانے پڑے۔</p>
<p><strong><span style="color: #339966;">جانشین کا تعارف</span><img loading="lazy" decoding="async" class="wp-image-7533 size-medium alignleft" src="http://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2022/11/03-207x300.jpg" alt="" width="207" height="300" srcset="https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2022/11/03-207x300.jpg 207w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2022/11/03-706x1024.jpg 706w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2022/11/03.jpg 720w" sizes="auto, (max-width: 207px) 100vw, 207px" /></strong></p>
<p>امام عسکریؑ کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک امام مہدی کو اپنا جانشین، امام اور مہدویت کا حامل شخص مہدی کے طور پر متعارف کروانا تھا۔ یہ بزرگ ترین مسؤولیت ایک سخت اور دشوار کام تھا کیونکہ دشمن آپؑ کے فرزند کو ہر حال میں صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا تھا لیکن اللہ تعالی نے اپنے نور کو محفوظ رکھا۔ لہذا امام عسکریؑ کو اپنے اصحاب اور خصوصی شیعوں میں اتنی مقدار میں امام مہدی کا تعارف وقتًا فوقتًا کروانا پڑا جس کی بناء پر اصحاب اور خصوصی شیعہ طبقہ اپنے امامؑ کو جان لیں اور اطمینان حاصل کر لیں کہ امام عسکریؑ کے فرزند ہیں اور وہی امام، خلیفہ اور مہدی آخر الزمان ہیں۔ کتب احادیث اور تواریخ میں متعدد واقعات معتبر طرق سے وارد ہوئے ہیں جن میں امام عسکریؑ نے امام زمان کا تعارف کروایا ہے۔ ان میں سے چند احادیث کی طرف ذیل میں اشارہ کیا جاتا ہے:</p>
<p>&#8211; هذا صاحبکم بعدی&#8230;؛</p>
<p>یہ (امام مہدی) میں بعد تمہارے صاحب و امام ہیں۔</p>
<p>&#8211; إنّ ابۡنِی هو القَائِمُ من بعدی&#8230;؛</p>
<p>بے شک میرا یہ فرزند میرے بعد قائم ہے۔</p>
<p>&#8211; هذا امامُکُم مِن بَعَدِی و خلیفتی علیکم&#8230;؛</p>
<p>میرے مبعد یہ تمہارا امام اور تمہارے اوپر میرا خلیفہ ہے۔</p>
<p>&#8211; ابنی محمد هو الامام الحجة بعدی&#8230;؛</p>
<p>میرا فرزند محمد مبرے بعد امام اور حجت ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ اور پہت سے موارد ہیں جن میں امام عسکریؑ کے بعد امام مہدی خلیفہ، امام اور امت کے رہبر کے طور پر متعارف کروائے گئے ہیں۔</p>
<p><span style="color: #339966;"><strong>شیعوں کو زمانہ غیبت کے لیے آمادہ کرنا</strong></span></p>
<p>امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی غیبت کے لیے امت میں فضاء بنانا اور شیعوں کو اس کے لیے آمادہ کرنا ایک اہم مسؤولیت تھی۔ اگر ایک امت یا ایک گروہ سے ان کا حقیقی رہبر اور رہنما غیبت میں چلا جائے اور نظروں سے پنہاں ہو جائے تو یہ امر کئی قسم کی دشواریوں کو وجود دیتا ہے جس سے امت کا شیرازہ بکھرنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ رسول اللہ ؐ اور آئمہ معصومین ؑ کی یہ سیرت رہی ہے کہ وہ عوام الناس کو تدریجا اور رفتہ رفتہ ایسے افکار یا موضوعات سے آشنا کراتے جن کا قبول کرنا ان کے لیے قدرے سنگین اور مشکل ہوتا۔</p>
<p>آئمہ اطہار ؑ کی امرِ غیبت میں یہی سیرت ہمیں آشکار دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ امام نقی اور عسکری علیہما السلام نے اس مسئلہ کو سنجیدگی اور تدبیر کے ساتھ حل فرمایا اور آہستہ آہستہ معاشرے میں بسنے والے شیعوں کے ساتھ وکلاء کے ذریعے رابطہ استوار رکھا۔ امام نقی ؑ بعض کام انہی نمائندوں کے ذریعے انجام دیتے اور لوگوں میں کم ظاہر ہوتے۔ اسی طرح امام عسکریؑ نے لوگوں سے رابطہ کے لیے وکلاء کو سامنے رکھا۔ چنانچہ امام عسکریؑ نے انتہائی قریبی ساتھیوں اور خاص اصحاب کو امام زمان ؑ سے متعارف کروایا تاکہ شیعہ امام زمان ؑ کے پُر نور وجود سے باخبر ہو سکیں۔ امام عسکریؑ لوگوں سے کم ملاقات کرتے حتی سامراء میں بعض اوقات مسائل کے جوابات خط و کتابت اور وکلاء کے ذریعے انجام دیتے تاکہ معاشرہ امام زمان ؑ کی غیبت کے لیے آمادہ ہو سکے۔ آہستہ آہستہ شیعہ دنیا اس بات کی عادی ہوتی چلی گئی کہ امامؑ سے تعلق وکلاء اور نمائندوں کے ذریعے استوار رکھا جائے۔ یہاں سے غیبتِ صغری کی فضاء قائم ہوئی اور اس عرصہِ غیبت میں امام زمان ؑ نے اپنے مخصوص نائیبین متعین فرمائے جن کے ذریعے امامؑ عوام الناس کے سوالات کے جوابات دیتے اور ان سے ربط و تعلق قائم رکھتے۔ اس غیبتِ صغری نے اگلے مرحلے کی غیبت کی کامل فضاء آمادہ کر دی اور کچھ مدت بعد امام زمان ؑ کی غیبت کبری کا آغاز ہوا۔</p>
<p><span style="color: #339966;"><strong>شہادت</strong></span></p>
<p>امام حسن عسکریؑ کی شہادت کا دلسوز واقعہ بروز جمعہ ۸ ربیع الاول، ۲۶۰ ھ کو پیش آیا۔ اس وقت آپؑ عمر مبارک ۲۸ سال تھی۔</p>
<p>جبکہ بعض نے نقل کیا ہے کہ آپؑ اپنے والد گرامی کے بعد پانچ سال، آٹھ مہینے اور تیرہ دن قیدِ حیات میں رہے اور ۲۹ سال کی عمر میں آٹھ ربیع الاول ۲۶۰ ھ کو شہید کر دیئے گئے۔</p>
<div id="themify_builder_content-12896" data-postid="12896" class="themify_builder_content themify_builder_content-12896 themify_builder">

    </div>
<!-- /themify_builder_content -->]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://al-mostabserin.com/urdu/12896/feed</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تشیع کی قبولیت ایک امریکی خاتون کی طرف سے حرم امام رضا علیہ السلام میں</title>
		<link>https://al-mostabserin.com/urdu/12893</link>
					<comments>https://al-mostabserin.com/urdu/12893#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[urdu]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 19 Sep 2026 09:41:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[استبصار کی داستانیں]]></category>
		<category><![CDATA[آمنہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی خاتون]]></category>
		<category><![CDATA[ایمی]]></category>
		<category><![CDATA[تشیع کی قبولیت]]></category>
		<category><![CDATA[شیعه شدگان]]></category>
		<category><![CDATA[مستبصرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://al-mostabserin.com/urdu/?p=12893</guid>

					<description><![CDATA[&#160; ایک امریکی خاتون نے حرم مطہر حضرت علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) میں اسلام اور مذهب شیعہ مذہب اختیار کیا۔ &#160; یہ امریکی خاتون، جس کا نام اسلام قبول کرنے سے پہلے “ایمی” تھا، نے کہا: میں نے روز اربعین نیویارک میں کچھ شیعیوں کے ساتھ ملاقات کی اور انہوں نے مجھے نذر [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-medium wp-image-12894" src="http://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-2-212x300.jpg" alt="" width="212" height="300" srcset="https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-2-212x300.jpg 212w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-2-725x1024.jpg 725w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-2-768x1085.jpg 768w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-2.jpg 1055w" sizes="auto, (max-width: 212px) 100vw, 212px" /></p>
<p><strong>ایک امریکی خاتون نے حرم مطہر حضرت علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) میں اسلام اور مذهب شیعہ مذہب اختیار کیا۔</strong></p>
<p>&nbsp;</p>
<p>یہ امریکی خاتون، جس کا نام اسلام قبول کرنے سے پہلے “ایمی” تھا، نے کہا: میں نے روز اربعین نیویارک میں کچھ شیعیوں کے ساتھ ملاقات کی اور انہوں نے مجھے نذر کے کھانے دیے۔ جب میں نے امام حسین علیہ السلام اور واقعہ کربلا کے بارے میں ان سے سوال کیا تو مجھے دلچسپ جوابات ملے۔<span id="more-12893"></span></p>
<p>اس نے کہا کہ شیعہ ہونے کے بعد میں نے اپنا نام “آمنہ” رکھا۔ آمنہ نے کہا: میں نے وسیع مطالعہ کے بعد یہ سمجھا کہ اسلام ایک مکمل دین ہے جو انسان کی تمام ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔</p>
<p>آمنہ نے مزید کہا: اسلام میں خوش رہنے کے لیے جامع ہدایات موجود ہیں اور میں نے ان مطالعات کی بنیاد پر شیعہ مذہب کو اختیار کیا۔ حرم مطہر امام رضا علیہ السلام میں مجھے سکون اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے اور مجھے امید ہے کہ میں ایک حقیقی مسلمان بن سکوں گی۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<div id="themify_builder_content-12893" data-postid="12893" class="themify_builder_content themify_builder_content-12893 themify_builder">

    </div>
<!-- /themify_builder_content -->]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://al-mostabserin.com/urdu/12893/feed</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام قبول کرنے والا گریگوری سوڈن</title>
		<link>https://al-mostabserin.com/urdu/12890</link>
					<comments>https://al-mostabserin.com/urdu/12890#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[urdu]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 15 Sep 2026 11:37:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مستبصرین میگزین]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام قبول کرنے والا]]></category>
		<category><![CDATA[شیعه شدگان]]></category>
		<category><![CDATA[گریگوری سوڈن]]></category>
		<category><![CDATA[مستبصرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://al-mostabserin.com/urdu/?p=12890</guid>

					<description><![CDATA[&#160; جتنا زیادہ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اسلامی عقائد کے بارے میں سیکھا، اُتنا ہی میرا دل اسلام قبول کرنے کی طرف مائل ہوتا گیا۔ &#160; جو معلومات میں نے پڑھیں، انہوں نے مجھے قائل کر دیا کہ اسلام ہی سچ ہے۔&#34;]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-medium wp-image-12891" src="http://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/013-179x300.jpg" alt="" width="179" height="300" srcset="https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/013-179x300.jpg 179w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/013.jpg 541w" sizes="auto, (max-width: 179px) 100vw, 179px" /></p>
<p><strong>جتنا زیادہ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اسلامی عقائد کے بارے میں سیکھا، اُتنا ہی میرا دل اسلام قبول کرنے کی طرف مائل ہوتا گیا۔ </strong></p>
<p>&nbsp;</p>
<p><strong>جو معلومات میں نے پڑھیں، انہوں نے مجھے قائل کر دیا کہ اسلام ہی سچ ہے۔</strong><strong>&quot;</strong></p>
<div id="themify_builder_content-12890" data-postid="12890" class="themify_builder_content themify_builder_content-12890 themify_builder">

    </div>
<!-- /themify_builder_content -->]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://al-mostabserin.com/urdu/12890/feed</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کشف الاسرار فی معرفة النبی و آله الاطهار علیهم السلام</title>
		<link>https://al-mostabserin.com/urdu/12886</link>
					<comments>https://al-mostabserin.com/urdu/12886#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[urdu]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 12 Sep 2026 11:44:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[عقائد لائبریری]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامیک کتاب]]></category>
		<category><![CDATA[کتابخانه اردو]]></category>
		<category><![CDATA[کتابخانه شیعه]]></category>
		<category><![CDATA[کشف الاسرار]]></category>
		<category><![CDATA[معرفة النبی]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا السید محمد سبطین الموسوی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://al-mostabserin.com/urdu/?p=12886</guid>

					<description><![CDATA[&#160; کتاب کا نام:          کشف الاسرار فی معرفة النبی و آله الاطهار علیهم السلام مصنف کا نام:        مولانا السید محمد سبطین الموسوی لینک 1 (Google Drive) : کشف الاسرار لینک 2 (Archive.org) : کشف الاسرار   ]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<ul>
<li><strong>کتاب کا نام:          کشف الاسرار فی معرفة النبی و آله الاطهار علیهم السلام</strong></li>
<li><strong>مصنف کا نام:        مولانا السید محمد سبطین الموسوی</strong><strong><br />
</strong></li>
<li></li>
</ul>
<p data-wp-editing="1"><img loading="lazy" decoding="async" class="wp-image-12887 size-medium aligncenter" src="http://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/012-205x300.jpg" alt="" width="205" height="300" srcset="https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/012-205x300.jpg 205w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/012.jpg 587w" sizes="auto, (max-width: 205px) 100vw, 205px" /></p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-11044" src="http://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2020/08/download-here-e1699869243955.png" alt="" width="146" height="38" /></p>
<p style="text-align: center;"><a href="https://drive.google.com/file/d/1K0MJ0haVmIP9rf3Mpw259rhrAdmRhu-8/view?usp=drive_link"><strong><span style="color: #000000;">لینک 1 (Google Drive) :</span></strong></a><a href="https://drive.google.com/file/d/1LgKCl1xbNJV4VJeKPoF69OWojDb4cOUs/view?usp=drive_link"><br />
</a></p>
<p style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;"><strong><a style="color: #0000ff;" href="https://drive.google.com/file/d/1f4Ya4Wb6nei4EfE0X8IDeXOrVaYoau_y/view?usp=drive_link">کشف الاسرار </a></strong></span></p>
<p style="text-align: center;"><a href="https://archive.org/details/shaheed-e-aazam"><span style="color: #000000;"><strong>لینک 2 (Archive.org) :</strong></span> </a></p>
<p style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;"><strong><a style="color: #0000ff;" href="https://archive.org/details/kashaf-ul-asraar">کشف الاسرار</a> </strong></span></p>
<p style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;"> </span></p>
<div id="themify_builder_content-12886" data-postid="12886" class="themify_builder_content themify_builder_content-12886 themify_builder">

    </div>
<!-- /themify_builder_content -->]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://al-mostabserin.com/urdu/12886/feed</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مستبصرین: اِنا براؤن یوسفی</title>
		<link>https://al-mostabserin.com/urdu/12882</link>
					<comments>https://al-mostabserin.com/urdu/12882#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[urdu]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 10 Sep 2026 11:37:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مستبصرین میگزین]]></category>
		<category><![CDATA[اِنا براؤن یوسفی]]></category>
		<category><![CDATA[شیعه شدگان]]></category>
		<category><![CDATA[مستبصرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://al-mostabserin.com/urdu/?p=12882</guid>

					<description><![CDATA[&#160; &#34;اِنا براؤن یوسفی&#8221; نے شہر قم میں ایک تقریب کے دوران کہا: &#34;اس شہر میں میں دل کی بات کہہ سکتی ہوں۔ میں اسلام کو انسانیت اور عقلانیت کا مظہر سمجھتی ہوں، اور میرے شوہر کے اعلیٰ اخلاق ہی وہ وجہ تھے جنہوں نے مجھے مکتبِ تشیع کو قبول کرنے پر آمادہ کیا۔&#8221;]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-medium wp-image-12883" src="http://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-1-300x212.jpg" alt="" width="300" height="212" srcset="https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-1-300x212.jpg 300w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-1-1024x723.jpg 1024w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-1-768x543.jpg 768w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-1.jpg 1492w" sizes="auto, (max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p><strong>&quot;اِنا براؤن یوسفی&#8221; نے شہر قم میں ایک تقریب کے دوران کہا:</strong></p>
<p>&quot;اس شہر میں میں دل کی بات کہہ سکتی ہوں۔ میں اسلام کو انسانیت اور عقلانیت کا مظہر سمجھتی ہوں، اور میرے شوہر کے اعلیٰ اخلاق ہی وہ وجہ تھے جنہوں نے مجھے مکتبِ تشیع کو قبول کرنے پر آمادہ کیا۔&#8221;</p>
<div id="themify_builder_content-12882" data-postid="12882" class="themify_builder_content themify_builder_content-12882 themify_builder">

    </div>
<!-- /themify_builder_content -->]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://al-mostabserin.com/urdu/12882/feed</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>محمد گوزل الآمدی، ترکیہ کے ایک صاحبِ بصیرت اور کتاب &#034;الہجرة إلى الثقلين&#8221; کے مصنف</title>
		<link>https://al-mostabserin.com/urdu/12879</link>
					<comments>https://al-mostabserin.com/urdu/12879#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[urdu]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 05 Sep 2026 09:35:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[استبصار کی داستانیں]]></category>
		<category><![CDATA[الہجرة إلى الثقلين]]></category>
		<category><![CDATA[داستان]]></category>
		<category><![CDATA[شیعه شدگان]]></category>
		<category><![CDATA[محمد گوزل الآمدی]]></category>
		<category><![CDATA[مستبصرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://al-mostabserin.com/urdu/?p=12879</guid>

					<description><![CDATA[&#160; &#34;محمد گوزل الآمدی&#8221; اپنے تشیع کے بارے میں لکھتے ہیں: دو مراحل سے گزرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ برحق مذہب، اہل بیت علیہم السلام کا مذہب ہے۔ پہلا مرحلہ وہ تھا جب میں اہل سنت کے حق ہونے اور شیعہ کے باطل ہونے کے بارے میں شک و شبہ میں [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-medium wp-image-12880" src="http://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-200x300.jpg" alt="" width="200" height="300" srcset="https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-200x300.jpg 200w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-683x1024.jpg 683w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123-768x1152.jpg 768w, https://al-mostabserin.com/urdu/wp-content/uploads/2026/09/0123.jpg 1024w" sizes="auto, (max-width: 200px) 100vw, 200px" /></p>
<p><strong>&quot;</strong><strong>محمد گوزل الآمدی&#8221; اپنے تشیع کے بارے میں لکھتے ہیں</strong><strong>:</strong></p>
<p>دو مراحل سے گزرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ برحق مذہب، اہل بیت علیہم السلام کا مذہب ہے۔ پہلا مرحلہ وہ تھا جب میں اہل سنت کے حق ہونے اور شیعہ کے باطل ہونے کے بارے میں شک و شبہ میں پڑ گیا۔ اس کے بعد میں نے سمجھا کہ اہل سنت کا مذہب مضبوط دلائل پر قائم نہیں ہے۔<span id="more-12879"></span></p>
<p>اس مرحلے پر میرا ذہن کئی مسائل میں الجھا ہوا تھا، جن میں سے ایک یہ تھا کہ کیا وہ حدیث جس میں &quot;فرقہ ناجیہ&#8221; کا ذکر ہے اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے، واقعی اہل سنت پر منطبق ہوتی ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ روایت اہل سنت پر منطبق ہو، جب کہ خود اہل سنت عقائد اور فروع دین میں کئی فرقوں میں تقسیم ہیں؟</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>اور انہی سوالات میں سے ایک یہ بھی تھا جس نے اس مرحلے پر مجھے اپنے اصل مذہب کے بارے میں شک میں ڈال دیا کہ کیا واقعی ہم اہل سنت ہیں؟ اگر ایسا ہے تو یہ نام کیسے ان خلفاء کے عمل کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو لکھنے سے منع کیا؟ خاص طور پر یہ کہ احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لکھنے کی ممانعت ہمارے ہی کتب میں متعدد بار ذکر ہوئی ہے اور اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>ایک اور سوال جس نے میرے مذہب کی بنیاد کو میری نظر میں کمزور کر دیا وہ یہ تھا کہ اگر ابو بکر کی خلافت واقعی برحق تھی تو کیوں ایسی کتاب میں جیسے بخاری، جسے ہم قرآن کے بعد سب سے صحیح کتاب سمجھتے ہیں، یہ روایت موجود ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے چھ ماہ بعد ابو بکر سے بیعت کی؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ابو بکر کی خلافت برحق ہو اور خیبر کے فاتح حضرت علی علیہ السلام جیسے عظیم شخصیت اس حق کے معاملے میں سستی کریں اور چھ ماہ بعد بیعت کریں؟</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>لیکن میرے سوالات یہیں ختم نہیں ہوئے؛ کچھ تحقیق کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ تمام فضائل جو ہمارے لئے دن رات خلفاء کے بارے میں بیان کئے جاتے تھے، صحیح نہیں ہیں بلکہ اس کے برعکس درست ہے۔</p>
<p>یہ چند مثالیں ان سوالات کی تھیں جنہوں نے پہلے مرحلے میں میرے ذہن کو سخت الجھا دیا، جن کے جوابات مجھے نہ مل سکے، اور اسی وجہ سے میں اپنے اصل مذہب یعنی اہل سنت کے بارے میں شک میں پڑ گیا۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>دوسرے مرحلے میں میں خود سے کہتا تھا: کیا یہ ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ اپنے بعد کسی خلیفہ کو مقرر نہ کریں؟ کیا یہ معقول ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ اپنی امت میں آنے والے اختلافات کی طرف اشارہ کریں اور فرمائیں کہ تہتر فرقوں میں سے صرف ایک فرقہ نجات پائے گا، لیکن پھر بھی اپنی امت کو بغیر کسی راہنما کے چھوڑ جائیں؟</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>اسی وجہ سے میں نے ارادہ کیا کہ اپنے آپ کو اس ذہنی الجھن سے نجات دوں اور ایک وسیع تحقیق کا آغاز کروں۔ اسی مرحلے میں میں نے اپنی گمشدہ حقیقت کو پا لیا۔ اہل سنت کی کتابوں میں مجھے بہت سی ایسی روایات ملیں جن میں حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی کی صراحت موجود ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص تعصب کو کنارے رکھ دے تو شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>حدیثِ منزلت، حدیثِ غدیر اور یہ حدیث: «یا علی انت ولی کل مؤمن من بعدی» ان احادیث میں سے ہیں جو معتبر اسناد کے ساتھ ہماری کتابوں میں نقل ہوئی ہیں، باوجود اس کے کہ ظالم حکومتیں ان روایات اور حضرت علی علیہ السلام کے فضائل کو چھپانے کی کوشش کرتی رہیں۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>ان روایات پر وسیع تحقیق کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ایسی احادیث بھی موجود ہیں جو خلافت و ولایت اہل بیت علیہم السلام کی صراحت کرتی ہیں، اور میں نے سمجھ لیا کہ اہل بیت علیہم السلام کے سوا کوئی بھی پیروی اور اقتدا کے لائق نہیں۔ اسی وجہ سے میں نے مذہبِ اہل بیت علیہم السلام کو پورے دل سے قبول کر لیا۔</p>
<div id="themify_builder_content-12879" data-postid="12879" class="themify_builder_content themify_builder_content-12879 themify_builder">

    </div>
<!-- /themify_builder_content -->]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://al-mostabserin.com/urdu/12879/feed</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>