The post آرٹیفیشل انٹیلیجنس appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>The post آرٹیفیشل انٹیلیجنس appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>The post رمضان المبارک appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>The post رمضان المبارک appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>The post یار فکر نہ کر appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>The post یار فکر نہ کر appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>The post شفاء لوکل ہسپتال اسلام آباد appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>The post شفاء لوکل ہسپتال اسلام آباد appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>The post پانچ منٹ appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>The post پانچ منٹ appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>The post گاڑی appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>The post گاڑی appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>The post زندگی appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>The post زندگی appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>The post بے بسی appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>The post بے بسی appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>The post سفر ازبکستان appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>پاکستان ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور ٹورازم کمیٹی ازبکستان کے باہمی اشتراک سے دو اگست سے سات اگست تک کیلئے ایک فوٹوگرافی ٹور کا اہتمام کیاگیا جس میں پاکستان سے پانچ فوٹوگرافرز منتخب کئے گئے۔ محمد رمضان مغل صاحب، شاھد قریشی راجو صاحب ، گلریز غوری صاحب ، طارق حمید سلیمانی صاحب اور محمد اظہر حفیظ ۔
اس ٹیم کو منتخب کرنے میں رانا آفتاب صاحب ایم ڈی پی ٹی ڈی سی اور ازبکستان کے سفیر عزت مآب علی شیر صاحب اور سیکنڈ سیکٹری سرور صاحب شامل تھے۔
ایک انتہائی خوبصورت اور معیاری سفر کا بندوست کیا گیا۔ جس میں ہر طرح کی سہولیات کے ساتھ ساتھ ڈرون لے جانے اور اڑانے کی اجازت کے مشکل مراحل بھی شامل تھے۔ اسلام آباد ائیرپورٹ سے تاشقند ائیرپورٹ تک ہر جگہ میزبانی کے بہترین انتظامات کئے گئے تھے۔ ہمارا سفر دواگست کو شروع ہوا اور دوپہر میں ہم ازبک ائیر کے ذریعے تاشقند پہنچے ۔ وقت کی پابند ازبک لوگوں کی پہلی ترجیح تھی۔ ہوائی جہاز سے لیکر بلٹ ٹرین تک ہر سواری وقت پر چلتی اور پہنچتی تھی کہیں بھی چند سیکنڈز کی تاخیر نہیں تھی۔ ہر جگہ میزبان ہمارے انتظار میں موجود تھے۔ ہماری سہولت کیلئے انگلش ٹرانسلیٹر بھی ہر جگہ ہمراہ تھے۔ ازبکستان میں بائیں ہاتھ پر ٹریفک کا انتظام ہے ہے گاڑی میں ایک ڈیوائس انسٹال ہے جسکو وہ راڈار کہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے کوئی بھی گاڑی اوور سپیڈنگ نہیں کرتی۔ جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ لوگ بہت مہمان نواز ہیں ۔ موسم اسلام آباد سے تھوڑا گرم ہے۔ وقت ازبکستان اور پاکستان کاایک ہی ہے۔ لوگ سادے اور محبت کرنے والے ہیں ۔کھانے میں سلاد طرح طرح کے بنائے جاتے ہیں ۔ کھانے میں گوشت کا استعمال زیادہ ہے۔ کھانا خوش شکل اور خوش ذائقہ ہے۔ ابادی میں خواتین زیادہ ہیں زیادہ جگہ وہی دوکانیں چلاتی ہیں۔ تاشقند میں ہم مختلف مقامات کی فوٹوگرافی کی اور سیٹیزن سنٹر سے ہوتے ہوئے کھانے پر پہنچے۔ لائٹنگ میں ازبک لوگ کسب کمال پر ہیں۔ تمام شہروں میں عمارات کی لائٹنگ بہت شاندار تھی۔ اگلی صبح ہم جہاز سے فرغانہ چلے گئے۔ وہاں کی عمارات اور مساجد کو فوٹوگراف کیا اور دوپہر کے کھانے پر افغانی پلاؤ کی طرز کا پلاؤ تھا پر انتہائی عمدہ کھا کر اندازہ ہوا پلاؤ کا اصل گھر فرغانہ ہے شاید ہی ان سے بہتر کہیں ایسا پلاؤ بنتا ہو۔ سارے ازبکستان میں پھل بہت خوش ذائقہ ہیں۔ آڑو ، انجیر، گرما، تربوز، انگور کیا کہنے اور خاص طور پر انکے بادام بہت خستہ اور ذائقہ دار ۔
ازبکستان کا فن تعمیر بھی کمال ہے۔ اینٹ اور نیلی ٹائل کا زیادہ کام ہے۔ چھتوں اور گنبدوں پر بہت اعلیٰ نقش نگاری کی جاتی ہے۔ صفائی میں بہت ایڈوانس ہیں۔ کہیں بھی آپ کو گندگی نظر نہیں اتی۔
زیادہ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ لاکھوں سیاح ازبکستان کا رخ کرتے ہیں واقعی دیکھنے کے قابل ہے۔
رات کو ہماری واپسی تاشقند ہوگئی اور اگلی صبح ہم ثمرقند کیلئے بذریعہ بلٹ ٹرین روانہ ہوگئے ٹرین کی سپیڈ 250 کلومیٹر گھنٹہ کے حساب سے تھی دو گھنٹوں میں ہم ٹمر قند پہنچ گئے اور پھر فوٹوگرافی شروع۔ ڈرون اور کیمرے سب استعمال ہورہے تھے کیونکہ مناظر ایسے تھے کہ بیٹریاں ختم ہونے پر ہی ہوٹل یاد آتا تھا۔ شاہ زندہ اور بیت ساری جگہیں قابل دید تھیں۔ امیر تیمور کے مجسمے اور مزار بھی قابل دید تھا۔ اگلے دن ہم بذریعہ ٹرین بخارا کیلئے روانہ ہوئے اور بخارا کا ایک اپنا ہی حسن تھا وہاں ہم نے علاقائی لباس اور ڈانس دیکھے اور رات کا کھانا کھایا۔ وہاں ریگستان جو کہ کچھ عمارات پر مشتمل تھا وہ ہرگز بھی ریتلا علاقہ نہیں تھا۔
اب واپسی کی تیاریاں تھی اور ہم بذریعہ بلٹ ٹرین چار گھنٹے سفر کرکے دوبارہ تاشقند پہنچے ۔ اور وہاں پھر ایک بہترین ڈنر ہمارے انتظار میں تھا۔ سوپ سلاد اور دنبے کا گوشت۔
ساتھ قہوہ جس کو چائے کہتے تھے۔ ازبک اور پاکستانی بہت سے الفاظ ایک جیسے ہیں۔ جیسے پلاو، سموسہ وغیرہ
کرنسی وہاں کی بہت سستی ہے ایک ڈالر کے بارہ ہزار پانچ سو سوم ملتے ہیں ۔ ساٹھ ڈالر کے میں نے ساڑھے سات لاکھ سوم خریدے جو جوس ، پانی وغیرہ لینے میں مددگار ثابت ہوئے۔ کچھ سووینئر بھی لیے تاکہ سفر کی یاد رہے۔ واپسی کا سفر براستہ شارجہ تھا چاکلیٹس شارجہ سے حاصل کیں اور پھر پاکستان ۔شکریہ پی ٹی ڈی سی اور ازبک ایمبیسی پاکستان اتنے اچھے انتظامات کیلئے ۔ جلد ہی نمائش کی صورت میں اور سوشل میڈیا پر آپ ہم سب کا کام دیکھ سکیں گے انشاء اللہ
The post سفر ازبکستان appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>The post برڈ بریڈنگ بس ہوگئی appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>جنوری 2022 میں جب میرا لیور ٹرانسپلانٹ ہوا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری اگلی زندگی کیسے گزرے گی۔ کہ میں دوبارہ کیمرا اٹھا سکوں گا یا نہیں۔ کیونکہ اکیلی پی ٹی وی کی نوکری سے میرا گھر نہیں چلتا تھا۔ تو میں نے کچھ کاروبار کرنے کیلئے سوچنا شروع کردیا۔
میرے ماموں زاد بھائی عثمان شاہ اور علی فراز سے روزانہ ملاقات ہوتی تھی اور وہ اکثر لوبرڈز کا تذکرہ کرتے۔ کہ ہم بریڈ کروا رہے ہیں۔ میں سرجری کے بعد تین ماہ کیلئے لاہور میں ہی تھا بستر پر لیٹا پڑھتا رہتا۔ اس دوران مختلف ویڈیوز لوبرڈ بریڈنگ کے حوالے سے سامنے آئیں۔ ان میں زیادہ تر یاسر خان روکھڑی صاحب اور نوید شیخ صاحب کی ویڈیوز تھیں۔ یاسر خان روکھڑی صاحب مختلف برڈز کی پرافٹ فیزیبلٹی بتاتے تھے اور نوید شیخ صاحب اپنی فتوحات بتاتے تھے۔ پھر پتہ چلا کہ ہماری فیملی میں سے محسن ظفر صاحب اور حامد اسحاق صاحب بھی اس کام کے ماہر ہیں۔ میں اس کام کو سٹڈی کرتا رہا اور جولائی 2022 میں میں نے دو کام شروع کرلیے پہلا آرٹیفیشل جیولری کا آن لائن بزنس تھا جس میں میرے دوست کے بیٹے عثمان ظفر صاحب میرے ساتھ شامل تھے۔ اور دوسرا کام برڈ بریڈنگ کا سیٹ اپ تھا۔ جیولری کا کام تقریباً دو لاکھ نقصان کے ساتھ بند کردیا کچھ ماہ ہی چلا۔ اور برڈ بریڈنگ میں میں نے ہر طرح کے تجربات کیے۔ لوبرڈ میں فشر، کامن لٹینو، پاربلو اوپلائن، البینو ریڈ ائی، کریمینو، ڈیکینو، پیل فیلو اورڈن فیلو تک تمام برڈ بریڈ کروائے۔ جاوا میں تمام قسم کی جاوا بریڈ کروائیں، گولڈین میں بھی مختلف قسم کی گولڈین بریڈ کروائیں۔ فینچز بھی مختلف قسم کی بریڈ کروائیں۔ کاک ٹیل بھی بریڈ کرائے۔ پہلے ایک چھوٹا کمرہ اگلے صحن میں پرندوں کے مطابق بنوایا جسمیں ہوا کے گزرنے کا بہترین انتظام کیا جس میں 24 پئیر باآسانی لگ گئے اور پھر گھر کے پچھلے صحن میں بھی ایک کمرہ بنایا جو کہ ایک بڑے سائز کا کمرہ تھا جس میں 52 پئیر باآسانی لگ جاتے تھے کالونیاں اس کے علاؤہ تھیں الحمدللہ اب میں 100 پیئر باآسانی بریڈ کروانے لگ گیا ۔ پہلا سیزن مناسب رہا ۔ 2023میں بریڈ اور بہتر رہی اور 2024 میں میرے پاس بہت اچھی بریڈ تھی۔ لیکن قیمتیں بہت نیچے آ چکی تھیں۔ جو جوڑا ساٹھ ہزار کا لیا تھا اس کا بچہ چھ سو پر آگیا تھا اور جو چالیس ہزار کا لیا اس کا بچہ پانچ سو تک آگیا تھا۔ پیسے بہت زیادہ لگ چکے تھے اور لگی جارہے تھے۔ میں بلکل بھی نہیں گھبرایا اور دانہ پانی دوائیاں کیمیکلز جاری تھے۔ پنجروں کی صفائی اور ٹرے کی دھلائی کیلئے ایک باجی آتی تھیں۔ خرچہ بہت احتیاط کے باوجود پندرہ سے بیس ہزار تک چلا جاتا تھا۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ دسمبر 2024 میری دفتر میں مصروفیات مزید بڑھ گئیں اور برڈز کیلئے وقت نکالنا مشکل ہوگیا تھا۔ سب برڈز کیلئے میں نے کسٹمائز پی وی سی کے ڈبے بنوائے جس میں وسیم بھائی نے بہت محبت فرمائی۔ مختلف ایکسپرٹس کے ساتھ رابطے میں رہتا لوبرڈ کے سیمینار بھی اٹینڈ کرتا۔ اور پرندوں کی بریڈنگ پر بہت سی ویڈیوز بھی بنائیں۔ آگست 2025میں مجھے اندازہ ہوا کہ میری بیگم اور ایک بیٹی ایک مشکل کام میں پڑ گئیں ہیں شوق میرا ہے اور محنت وہ کررہی ہیں تو میں نے اس کام کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور 6 ستمبر 2025 تین سال اور چند ماہ اس کام کو کیا تقریباً دو ملین سے زیادہ کا نقصان کیا اور الحمدللہ ہنسی خوشی اس کام سے نکل گئے۔ جولائی 2022 سے ستمبر 2025 تک روزانہ کی بنیاد پر برڈز کی قیمتیں کم ہی ہوئیں۔ کچھ دوست ابھی بھی اس کام کے نئے دوستوں کو خواب دکھا رہے ہیں۔ یہ بھی جوئے کی ایک نسل ہے جس میں چند لوگوں نے کروڑوں کمائے اور بہت سو نے لاکھوں گنوائے۔ سنا تھا کہ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔ لیکن شجر سے پرندے اڑ چکے ہیں احتیاط سے مزدوری کیجئے۔ شکریہ
(اگر کسی بھی صاحب کی اس مضمون سے دل آزاری ہوئی ہے تو ویڈیو بنانے سے گریز کریں کیونکہ یہ مضمون آپ کیلئے نہیں ہے )
The post برڈ بریڈنگ بس ہوگئی appeared first on Muhammad Azhar Hafeez.
]]>